فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 198

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 198 میں تاد فرمایا:۔ (۲۵۴) اپنی بیوی سے حسن معاشرت چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسام ازلی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ سی باتوں دیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول علیه السلام نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ آپ جیسے رشید اور سعید کو اس تاکید سے کسی قد را اطلاع کروں ۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسی معاشرت کرو جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو اور رسول اللہ علی یا اللہ فرماتے ہیں ۔ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ بِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے بہتر وہ انسان ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آوے۔ اور حسن معاشرت کیلئے اس قدر تا کید ہے کہ میں اس خط میں لکھ نہیں سکتا۔ عزیز من انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کر دیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔ نرمی برتنی چاہئے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمانداری بجالاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے، مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔ خونخوار انسان نہیں بننا چاہئے ، بیویوں پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو دین سکھلانا چاہئے ۔ در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔ میں جب کبھی اتفاقا ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صدہا کوس سے میرے حوالہ کیا ہے، شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔ تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرماویں اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔" الحکم نمبر 13 جلد 9 مورخہ 17 را پریل 1905 ء صفحہ 6