فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 195

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 195 فرمایا:۔ (۲۴۸) ایلاء یعنی اپنی بیوی سے جدا ہونے کیلئے قسم کھانا " جو لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہونے کیلئے قسم کھا لیتے ہیں وہ طلاق دینے میں جلدی نہ کریں بلکہ چار مہینے انتظار کریں۔ سوا گر وہ اس عرصہ میں اپنے ارادہ سے باز آجاویں، پس خدا کو غفور و رحیم پائیں گے اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں ، سو یا د رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بددعا کرے تو خدا اس کی بد دعا سن لے گا۔" ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 52 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۴۹) طلاق ایک جلسہ میں بحالت غصہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھا اور فتوی طلب کیا کہ ایک شخص نے از حد غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دی۔ دلی منشا نہ تھا ۔ اب ہر دو پریشان اور اپنے تعلقات کو کو توڑنا توڑنا نہیں چاہتے ۔ حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا ہے :۔ " فتویٰ یہ ہے کہ جب کوئی ایک ہی جلسہ میں طلاق دے تو یہ طلاق ناجائز ہے اور قرآن کے برخلاف ہے اس لئے رجوع ہو سکتا ہے۔ صرف دوبارہ نکاح ہو جانا چاہئے اور اسی طرح ہم ہمیشہ فتویٰ دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔ والسلام " فرمایا:۔ اخبار بدر نمبر 5 جلد 6 مورخہ 31 جنوری 1907 ء صفحہ 4 (۲۵۰) ہدایت برائے مطلقات و طالق و ترتیب طلاق اور چاہیئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی وہ رجوع کی امید کیلئے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں ، دو دفعہ طلاق ہوگی ۔ یعنی ہر ایک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان