فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 193
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 193 نیوگ سے کیا نسبت ہے اور نیوگ کو متعہ سے کیا مناسبت۔پھر ماسوا اس کے ہم یہ کہتے ہیں کہ در حقیقت یہ اسلام ہی میں خوبی ہے کہ اس میں ایک موقت نکاح بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ورنہ دوسری قوموں پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ادنی ادنیٰ ضرورتوں کیلئے زنا کاری کو بھی جائز رکھا ہے۔بھلا ایک دانشمند نیوگ کے مسئلہ پر ہی غور کرے کہ صرف اولاد کے لالچ کی وجہ سے اپنی پاکدامن عورت کو نامحرم کے بستر پر لٹا دیا جاتا ہے حالانکہ نہ اس عورت کو طلاق دی گئی نہ خاوند کے تعلقات اس سے ٹوٹے ہیں بلکہ وہ خاوند کی سچی خیر خواہ بن کر اس کیلئے اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ایسا ہی عیسائیوں میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ایک نوجوان عورت کو دوسرے نو جوان اجنبی مرد سے ہم بغل ہونے سے روکے اور مرد کو اس عورت کا بوسہ لینے سے منع کرے۔بلکہ یورپ میں یہ تمام مکروہ باتیں نہایت بے تکلفی سے رائج ہیں اور پردہ پوشی کیلئے ان کاموں کا نام پاک محبت رکھا جاتا ہے۔سو یہ ناقص تعلیم کے بدنتائج ہیں۔اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے سفر میں جاتا جس میں کئی سال کی تو قف ہوتی تو وہ عورت کو ساتھ لے جاتا یا اگر عورت ساتھ جانا نہ چاہتی تو وہ ایک دوسرا نکاح اس ملک میں کر لیتا۔لیکن عیسائی مذہب میں چونکہ اشد ضرورتوں کے وقت میں بھی دوسرا نکاح ناجائز ہے اس لئے بڑے بڑے مد بر عیسائی قوم کے جب ان مشکلات میں آ پڑتے ہیں تو نکاح کی طرف ان کو ہرگز توجہ نہیں ہوتی اور بڑے شوق سے حرامکاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔جن لوگوں نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳۔۱۸۸۹ء پڑھا ہوگا وہ اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ عیسائی مذہب کی پابندی کی وجہ سے ہماری مد بر گورنمنٹ کو بھی یہی مشکلات پیش آگئیں۔ناظرین جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کس قدردانا اور دور اندیش اور اپنے تمام کاموں میں با احتیاط ہے اور کیسی کیسی عمدہ تدابیر رفاہ عام کیلئے اس کے ہاتھ سے نکلتی ہیں اور کیسے کیسے حکماء اور فلاسفر یورپ میں اس کے زیر سایہ رہتے ہیں۔مگر تا ہم یہ دانا گورنمنٹ مذہبی روکوں کی وجہ سے اس کام میں احسن تدابیر پیدا کرنے سے ناکام رہی ہے۔یوں تو اس گورنمنٹ نے اپنی تدبیر اور حکمت اور ایجادات سے یونانیوں کے علوم کو بھی خاک میں ملا دیا۔مگر جس انتظام میں مذہب کی روک واقع ہوئی اس کے درست کرنے اور نا قابل اعتراض بنانے میں گورنمنٹ قادر نہ ہو سکی۔اس بات کے سمجھنے کیلئے وہی نمونہ ایکٹ