فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 185
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گزرگئی ہے تب بھی رجوع ہو سکتا ہے۔" 185 الحکم نمبر 15 جلد 7 مورخہ 24 را پریل 1903ء صفحہ (9) احمدی جماعت میں سے ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ عورت کے رشتہ داروں نے حضرت کی خدمت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے۔ مرد کے بیانوں سے یہ بات پائی گئی کہ اگر اسے کوئی ہی سزادی جاوے مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے۔ عورت کے رشتہ داروں نے جو شکایت کی تھی ان کا منشا تھا کہ پھر آبادی ہو۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ " عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی۔ بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کوئی تخش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تا ہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرت کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔ بعض وقت عورت گوولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اس لئے وہ طلاق دے سکتا ہے۔ مزاجوں کا آپس میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے اس لئے ہم اب اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سو ہوا۔ مہر کا جو جھگڑا ہو وہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔" اخبار بدر نمبر 15 جلد 2 مورخہ یکم مئی 1903 ء صفحہ 117) فرمایا کہ:۔ (۲۴۱) شرطی طلاق اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے۔ جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔" فرمایا:۔ اخبار بدر نمبر 21 جلد 2 مورخہ 12 جون 1903ء صفحہ (162) (۲۴۲) عورتوں کو طلاق دینے میں جلدی نہ کرو