فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 186
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 186 "بارہا دیکھا گیا اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملال کا موجب ہوتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اور اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط جلدی اس کی طرف روانہ نہ ہوگی تو اسے طلاق دیدی جاوے گی۔سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ "جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکا تعلق ہے۔"ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اول بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ " مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔" چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ "وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں۔جو کچھ زوجہ اول کو دیو یں وہی اسے دیو ہیں۔ایک شب ادھر رہیں تو ایک شب ادھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اسے زوجہ اول کا دست نگر کر کے نہ رکھا جاوے۔" ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گذر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصول اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اول کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔چنانچہ خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیچاری بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 23 جلد 2 مؤرخہ 26 جون 1903 ء صفحہ 178 ) (۲۴۳) اعتراض اہل ہنود کا جواب جو طلاق کو نیوگ سے مناسبت دیتے ہیں فرمایا:۔