فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 179

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 179 فرمایا:- (۲۳۷) خواہش اولا دو ترک اولاد "اگر چه اس دار الابتلاء میں خدا تعالیٰ نے اولاد کو بھی فتنہ میں ہی داخل رکھا ہے جیسا کہ اموال کو۔لیکن اگر کوئی شخص صحت نیت کی بنا پر محض اس غرض سے اور سراسر اس وجد اور فکر سے طالب اولاد ہو کہ تا اس کے بعد اس کی ذریت میں سے کوئی خادم دین پیدا ہو۔جس کے وجود سے اس کے باپ کو بھی دوبارہ ثواب آخرت کا حصہ ملے۔تو خاص اس نیت اور اس جوش سے اولاد کا خواہشمند ہونا نہ صرف جائز بلکہ اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ میں سے ہے جیسا کہ اس خواہش کی تحریک اس آیت کریمہ میں بھی پائی جاتی ہے۔اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (س) (19) لیکن سچ سچ اور واقعی اور حقیقی طور پر یہی جوش پیدا ہونا اور اس لکہی جوش کی بناپر اولاد کا خواہشمند ہونا ان ابرارو خیار اور اتقیا کا کام ہے جو اپنے اعمال خیر کے آثار باقیہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتے ہیں۔لیکن ابنائے روزگار کی رسم اور عادت کے طور پر خواہشمند اولاد ہونا اور یہ خیال رکھنا کہ ہماری موت فوت کے بعد ہماری زخارف دنیا کی ہماری اولا د وارث بنے۔اور شرکاء ہماری جائیداد کے قابض نہ ہونے پائیں۔بلکہ ہمارے بیٹے ہمارے ترکہ پر قبضہ کریں۔اور شریکوں سے لڑتے جھگڑتے رہیں اور ہمارے مرنے کے بعد دنیا میں ہماری یادگار رہ جاوے یہ خیال سراسر شرک اور فساد اور سخت سے بھرا ہوا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ جب تک یہ خیال دل میں سے دور نہ ہولے کوئی شخص سچا موحد اور سچا مسلمان نہیں ہو سکتا۔ہمیں ہر روز خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔اور جن امور کو وہ فتنہ قرار دیوے بغیر تحقیق صحت نیت کے ان کو اپنی درخواست سے اپنے پر نازل نہیں کرانا چاہئے۔جو شخص خدا تعالیٰ کیلئے ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اس کیلئے ہو جاتا ہے۔وہ اس کے اندرونی پاک جوشوں اور مظہر جذبات کو خوب جانتا ہے بلکہ در حقیقت پاک دل انسان کے اندرونی جوش اس کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر وہ خود انہی کو پورا بھی کر دیتا ہے۔جس وقت وہ دیکھتا ہے کہ ایک للہی حالت کا آدمی اس کے دین کی خدمت کیلئے اپنا کوئی وارث چاہتا ہے تواللہ جلشانہ اس کو ضرور کوئی وارث عنایت کرتا ہے۔اس