فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 168

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 168 (۲۳۲) ایک ناطہ کے متعلق فتویٰ مسئلہ:۔ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کیلئے راضی تھے۔مگر ایک بھائی مخالف تھا وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے؟ حضرت اقدس نے دریافت کیا کہ:۔"وہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے؟" جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔فرمایا:۔" پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔" پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ نے اپنی لڑکیوں کے رشتے ابولہب سے کر دئیے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کا نزول نہ ہوا تھا۔چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ پر تو حید غالب تھی اس لئے دخل نہ دیتے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سرانجام دیتے اس لئے ابولہب کولر کی دے دی تھی۔رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں ؟ اس پر فرمایا کہ:۔اگر آنحضرت علی اللہ کوعلم غیب ہوتا تو آپ زینب کا نکاح زید سے نہ کرتے کیونکہ بعد کو جدائی نہ ہوتی اور اسی طرح ابولہب سے بھی رشتہ نہ کرتے۔" ( اخبار بدر نمبر 25 جلد 2 مؤرخہ 10 جولائی 1903 صفحہ 193 ) (۲۳۳) برات کے ساتھ باجا میاں اللہ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو براتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں؟۔فرمایا:۔" فقہا نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لئے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ہم کو مقصود بالذات لینا چاہئے۔اعلان کیلئے یہ کام