فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 169

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 169 کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلمی کا اظہار مقصود ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض چپ چاپ شادیوں میں نقصان پیدا ہوئے ہیں یعنی جب مقدمات ہوئے ہیں تو اس قسم کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔غرض ان خرابیوں کے روکنے کیلئے اور شہادت کیلئے اعلان بالدف جائز ہے۔اور اس صورت میں باجا بجانا منع نہیں ہے بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں دراصل یہ بھی اس غرض کیلئے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر اب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بھی بہت سی باتیں اور پیدا کی گئی ہیں۔پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جاوے بلکہ یہ رشتہ ناطہ کو جائز کرنے کیلئے ضروری امور ہیں۔یادرکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے شرع اس پر ہرگز زد نہیں کرتی۔کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔۔۔۔۔اور باجا بجانا بھی اسی صورت میں جائز ہے جب کہ یہ غرض ہو کہ اس نکاح کا عام اعلان ہو جاوے اور نسب محفوظ رہے کیونکہ اگر نسب محفوظ نہ رہے تو زنا کا اندیشہ ہوتا ہے جس پر خدا نے بہت ناراضی ظاہر کی ہے۔یہاں تک کہ زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے اعلان کا انتظام ضروری ہے۔البتہ ریا کاری فستق، فجور کیلئے یا صلاح و تقوی کے خلاف کوئی منشا ہو تو منع ہے۔شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے۔لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - باجہ کے متعلق حرمت کا کوئی نشان بجز اس کے کہ وہ صلاح و تقویٰ کے خلاف اور ریا کاری اور فسق و فجور کیلئے ہے پایا نہیں جاتا اور پھر اعلان بالدف کو فقہاء نے جائز رکھا ہے اور اصل اشیاء حلت ہے اس لئے شادی میں اعلان کیلئے جائز ہے۔" فرمایا:- الحکم نمبر 37 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1902 ء صفحہ 8,7) (۲۳۴) شادی میں آتش بازی و تما شا و با جا آتش بازی اور تما شا و غیرہ یہ بالکل منع ہیں کیونکہ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں " الحکم نمبر 37 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1902 ء صفحہ 8)