فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 167
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 167 جواب: - لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اس کا خیال مہر میں ضرور ہونا چاہئے۔خاوند کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔اگر اس کی حیثیت 10 روپے کی نہ ہوتو وہ ایک لاکھ کا مہر کیسے ادا کرے گا اور مچھروں کی چربی تو کوئی مہر ہی نہیں یہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا مِیں داخل ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 11 جلد 3 مؤرخہ 16 / مارچ 1904 ء صفحہ 6) ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتی تھی تو اپنی نصف نیکیاں مجھے دیدے تو بخش دوں۔خاوند کہتا رہا کہ میرے پاس حسنات بہت کم ہیں بلکہ بالکل ہی نہیں ہیں۔اب وہ عورت مر گئی ہے خاوند کیا کرے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔اسے چاہیے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دیدے۔اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے۔شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علی ہذا القیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔" اخبار بدر نمبر 7 جلد 4 مؤرخہ 5 / مارچ 1905 ء صفحہ 2) (۲۳۱) فاسقہ کو حق وراثت ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً زید نام لا ولد فوت ہو گیا ہے۔زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کی حین حیات میں بیاہی گئی تھی۔بہ سبب اس کے کہ خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مر گیا۔زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے با قاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ نا جائز ہے۔زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئے؟ حضرت نے فرمایا کہ:۔" اس کو حصہ شرعی ملنا چاہئے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا۔شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئے۔باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کا رروائی کر سکتا ہے، اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔" ( اخبار بدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 صفحہ 6)