فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 4

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان کو امانت کے طور پر پہنچا دے۔اول کلام الہی۔دوئم کلام الہی کے موافق عمل کر کے دکھا دینا اور یہی دو باتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل ہیں اور اسی کو کتاب اور سنت کہتے ہیں اور اب ایک تیسری بات ان دو کے ساتھ شامل کر لی گئی ہے وہ حدیث ہے۔ہمارا مذ ہب یہ ہے کہ وہ تیسری شے یعنی حدیث جب تک ان دونوں یعنی کتاب اور سنت کے موافق نہ ہوگی ہم نہیں مانیں گے۔ان لوگوں نے دھوکا دہی کے طور پر سنت اور حدیث کو مخلوط کر کے ایک بنادیا ہے۔حالانکہ وہ دو جدا چیزیں ہیں۔سنت اور شے ہے اور حدیث اور چیز۔سنت کے معنی طریق اور عمل کے ہیں اور حدیث کا مفہوم صرف بات ہے۔یعنی وہ باتیں جو لوگوں نے اپنے الفاظ میں مدتوں بعد جمع کیں۔آنحضرت علي السلم جو کچھ اللہ تعالیٰ سے پاتے تھے سنت کے طریق پر اسے بتا دیتے تھے۔مثلاً نماز کا حکم ہوا، آپ نے نماز پڑھ کر بتادی۔ایسا ہی زکوۃ اور اس کے متعلق جملہ امور حج اور اس کے ارکان روزہ اور اس کے متعلقات غرض تمام امور جو اللہ تعالیٰ سے آپ پاتے ، ان کو کر کے دکھا دیتے۔آپ کے اس عمل کا نام ہی سنت ہے جو حدیث سے بالکل الگ ہے اور قرآن شریف کی طرح سلسلہ تعامل میں یہ محفوظ ہے۔کیا اگر حدیث نہ ہوتی تو ہمارے مخالف کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان نماز نہ پڑھتے یا روزہ نہ رکھتے باز کوۃ نہ دیتے یا حج نہ کرتے ؟ نہیں نماز و روزہ حج زکوۃ اور دیگر ضروریات دین اسی طرح ہوتیں جیسے اب ہیں۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حدیث کے زمانہ تک جو دو سو برس تک کا زمانہ ہے مسلمانوں میں ضروریات دین پر عمل نہ ہوتا تھا اور جب تک بخاری اور مسلم مرتب نہ ہو گئیں مسلمان مسلمان نہ تھے۔یہ تو قرآن اور آنحضرت عبید اللہ کی توہین ہے کہ آپ نے اس ذمہ واری کو پورا نہ کیا جو لے کر آئے تھے۔قرآن میں سب کچھ ہے مگر نبوت کا استدلال لطیف ہوتا ہے۔جبرائیل سے جو معصوم [ معلوم] ہو تا آنحضرت علي الله علم پا کر اپنے عمل سے دکھا دیتے۔پس اس بات سے کبھی دھوکا نہ کھاؤ کہ حدیث اور سنت کو ایک قرار دو۔حدیث وہ اقوال رطب و یابس ہیں جو پیچھے جمع ہوئے۔ان میں وہی قابل اعتبار ہیں اور حیح ہیں جو کتاب اور سنت کے مخالف اور منافی نہیں ہیں۔اگر کوئی سوال کرے کہ قرآن شریف سے نماز کی رکعتیں دکھاؤ ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ ہمیں حدیث سے نہیں بلکہ سنت سے معلوم ہوا ہے اور اگر حدیثیں ایسی ہی تھیں جیسے قرآن شریف تو پھر