فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 164
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 164 (۲۲۶) ادب رسول ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ میں ایک عورت سے نکاح کرنا چاہتا تھا مگر خواب میں حضرت رسول کریم علی اللہ نے مجھے منع کیا ہے۔اس کی کیا تعبیر ہے؟ فرمایا کہ:۔عليه وسلم ممکن ہے کہ اس کی تعبیر خواہ کچھ اور بھی ہو لیکن طریق ادب یہی ہے کہ آنحضرت عبید اللہ نے خواب میں جو کچھ فرمایا ہے۔اس پر عمل کیا جاوے۔" اخبار بدر نمبر 7 جلد 6 مؤرخہ 14 فروری 1907 ، صفحہ 8 (۲۲۷) افریقہ کی برہنہ عورتوں سے نکاح افریقہ سے ایک دوست نے بذریعہ تحریر حضرت سے دریافت کیا کہ اس جگہ کے اصلی باشندہ مردو زن بالکل ننگے رہتے ہیں اور معمولی خوردونوش کی اشیاء کا لین دین، ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے تو کیا ایسے لوگوں سے ملنا جلنا گناہ تو نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ:۔" تم نے تو ان کو نہیں کہا کہ ننگے رہو ، وہ خود ہی ایسا کرتے ہیں۔اس میں تم کو کیا گناہ۔وہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں بعض فقیر اور دیوانے ننگے پھرا کرتے ہیں۔ہاں ایسے لوگوں کو کپڑے پہننے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔" ایسے ہی لوگوں کی نسبت یہ بھی سوال کیا گیا کہ چونکہ ملک افریقہ میں غریب لوگ بھی ہیں جو نوکری پر با آسانی سستے مل سکتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں سے کھانا پکوایا جائے تو یہ کیا جائز ہے۔یہ لوگ حلال حرام کی پہچان نہیں رکھتے ؟ فرمایا:۔اس ملک کے حالات کے لحاظ سے جائز ہے کہ ان کو نو کر رکھ لیا جائے اور اپنے کھانے وغیرہ کے متعلق ان سے احتیاط کرائی جائے۔" یہ بھی سوال ہوا کہ کیا ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے؟ فرمایا:۔" اس ملک میں اور ان علاقوں میں بحالت اضطرار ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے لیکن صورت نکاح میں ان کو کپڑے پہنانے اور اسلامی شعار پر لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔" اخبار بدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 ء صفحہ 6)