فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 162
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 162 فرمایا:۔(۲۲۱) پہلی بیوی والے کوٹڑ کی نہ دینا بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔سویا درکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔" فرمایا:۔( اخبار بدر نمبر 31 جلد 2 مؤرخہ 2 راگست 1906 ء صفحه 12 (۲۲۲) شادیوں میں بیجا خرچ اور بھاجی تقسیم کرنا " ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونو باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتشبازی جلانا اور رنڈی ، بھڑوؤں، ڈوم دہاڑیوں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے۔" اخبار بدر نمبر 31 جلد 2 مؤرخہ 2 راگست 1906 ء صفحه 12 (۲۲۳) تنبول میں نے عرض کیا کہ تنبول کی نسبت حضور کا ارشاد؟ فرمایا:۔" اس کا جواب بھی وہی ہے۔اپنے بھائی کی ایک طرح امداد ہے۔" عرض کیا گیا ، جو تنبول ڈالتے ہیں وہ تو اس نیت سے ڈالتے ہیں کہ ہمیں پانی کے چھ رو پے ملیں اور پھر ای رو پید کو کنجروں پر خرچ کرتے ہیں۔فرمایا:۔" ہمارا جواب تو اصل رسم کی نسبت ہے کہ نفس رسم پر کوئی اعتراض نہیں۔باقی رہی نیت سو آپ ہر