فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 156

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 156 قائمقام ہے۔خدا کی شریعت دوا فروش کی دکان کی مانند ہے۔پس اگر دوکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوامل سکتی ہے تو وہ دوکان چل نہیں سکتی۔پس غور کرو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بعض مشکلات مردوں کیلئے ایسی پیش آجاتی ہیں جن میں وہ نکاح ثانی کیلئے مضطر ہوتے ہیں۔وہ شریعت کس کام کی جس میں کل مشکلات کا علاج نہ ہو۔دیکھو انجیل میں طلاق کے مسئلہ کی بابت صرف زنا کی شرط تھی اور دوسرے صد با طرح کے اسباب جومرداور عورت میں جانی دشمنی پیدا کر دیتے ہیں ان کا کچھ ذکر نہ تھا۔اس لئے عیسائی قوم اس خامی کی برداشت نہ کر سکی اور آخر امریکہ میں ایک طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔سو اب سوچو کہ اس قانون سے انجیل کدھر گئی اور اے عورتو! فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔" فرمایا:- (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 81,80 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۱۵) خلع اگر عورت مرد کے تعدد ازدواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم ضلع کراسکتی ہے۔خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی۔سو تم اے عورتو! اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔بے شک وہ مرد سخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جو روئیں کر کے انصاف نہیں کرتا۔مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے مورد قہر الہی مت بنو۔ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔اگر تم خدا تعالیٰ کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا۔اگر چہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا ہے لیکن قضاء وقدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے۔اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضاء و قدر کے قانون سے فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ قضاء و قدر کا قانون