فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 145
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 145 اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔" فرمایا:۔کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 197 تا 199 حاشیہ، مطبوعہ نومبر 1984ء) "جب میں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے کشف میں ملا اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے اس سے باہر نکل۔اس طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے مگر جو لوگ تکلف سے اپنے آپ کو مشقت سے محروم رکھتے ہیں خدا ان کو دوسری مشقت میں ڈالتا ہے اور نکالتا نہیں اور دوسرے جو خود مشقت میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔انسان کو واجب ہے کہ اپنے نفس پر آپ شفقت نہ کرے بلکہ ایسا بنے کہ خدا اس کے نفس پر شفقت کرے کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے اور خدا کی شفقت جنت۔ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو کہ جو آگ میں خود گرنا چاہتا ہے اسے تو وہ خدا آگ سے بچاتا ہے اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔یہ اسلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس کا انکار نہ کرے۔اگر آنحضرت علیل یا اللہ اپنی عظمت کی فکر میں خود لگتے تو وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس کی آیت نازل نہ ہوتی۔حفاظت الہی کا یہی سر ہے۔" الحکم نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 10 دسمبر 1902 ء صفحہ 9) (۱۹۶) کیا سفر میں روزہ رکھیں آپ سے دریافت کیا گیا کہ سفر کیلئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ:۔