فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 143
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 143 ایک بار میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس کیلئے مقرر ہے تو معلوم ہوا یہ اس لئے ہے کہ اس سے روزہ کی توفیق ملے۔خدا ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہئے وہ قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی طاقت روزہ عطا کر سکتا ہے۔اس لئے مناسب ہے کہ ایسا انسان جو دیکھے کہ روزہ سے محروم رہا جاتا ہوں تو دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال رہوں یا نہ رہوں یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ۔اس لئے اس سے توفیق طلب کرے، مجھے یقین ہے کہ ایسے قلب کو خدا طاقت بخش دے گا۔اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور اسی حالت میں اگر رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہو جاتی ہے کیونکہ کام کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے۔جو شخص کہ روزہ سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا، اس کا دل اس بات کیلئے گریاں ہے تو فرشتے اس کیلئے روزہ رکھیں گے بشر طیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو، تو خدا تعالیٰ ہرگز اسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک بار یک امر ہے۔اگر کسی شخص پر اپنے نفس کے کسل کی وجہ سے روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدائی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے کب اس ثواب کا مستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر ہی تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں، ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش لیتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک وہ صحیح نہیں ہے۔تکلف کا باب تو بہت وسیع ہے اگر انسان