فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 141

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 141 (۱۸۹) مکانات و جواہرات پر زکوة خط سے سوال پیش ہوا کہ مکان میں میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ہے اس حصہ میں مجھ پر زکوۃ ہے یا نہیں۔حضرت نے فرمایا:۔" جواہرات و مکانات پر کوئی زکوۃ نہیں ہے۔" (الحکم نمبر 7 جلد 11 مؤرخہ 24 فروری 1907ء صفحہ 13 ) (۱۹۰) مکان اور تجارتی مال پر زکوة ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ:۔" مکان خواہ کتنے ہزار روپیہ کا ہو اس پر زکوۃ نہیں اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکوۃ ہے ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے زکوۃ نہیں۔حضرت عمر چھ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکوۃ لگائی جاتی تھی۔" (اخبار بدر نمبر 7 جلد 6 مؤرخہ 14 فروری 1907 ء صفحہ 8) (۱۹۱) قرض پر زکوۃ ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو زکوۃ دینی لازم ہے۔فرمایا:۔"نہیں" فرمایا:- (اخبار بدر نمبر 8 جلد 6 مؤرخہ 21 فروری 1907 ء صفحہ 5) (۱۹۲) وجه تسمیه رمضان رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کیلئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلایا۔