فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 140

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 140 (۱۸۷) معلق مال کی زکوة ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔" جو مال معلق ہے اس پر ز کو نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہئے کہ حیلہ بہانہ سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالی کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں یہ درست نہیں ہے۔" (الحکم نمبر 25 جلد 11 مورخہ 17 / جولائی 1907ء صفحہ 12 ) فرمایا: - (۱۸۸) زیور کی زکوۃ بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوۃ نہیں " ( اخبار بدر نمبر 31 جلد 2 مؤرخہ 02 اگست 1906ء صفحه 12 بعض دوستوں کے استفسار پر حضرت اقدس نے زیور کی زکوۃ کے متعلق مفصلہ ذیل سطور لکھی ہیں ، جو تمام احباب کی اطلاع کیلئے شائع کی جاتی ہیں تا اس پر سب کا عمل درآمد ہو۔"جوز یور پہنا جائے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کیلئے دیا جائے بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی کچھ زکوۃ نہیں اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کیلئے نہ دیا جائے اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کیلئے مستعمل ہوتا ہے۔اسی پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوۃ دیتے ہیں اور جوز یوروپیہ کی طرح جمع رکھا جائے اس کی زکوۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔" الحکم نمبر 40 جلد 9 مؤرخہ 17 نومبر 1905ء صفحہ 11)