فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 139

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 139 ہیں۔امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جاوے۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہوتو پروا نہیں۔اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے میں اس کے بیان کرنے سے نہیں رک سکتا۔انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم ہرگز ہرگز اس نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلا کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جاوے اور وہ کہے کہ اچھا اس کو منس ( راہ خدا پر دینا ) دیتے ہیں۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سڑی کیسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آسکتی ہیں فقیروں کو دیدیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے وہ تو صاف طور پر کہتا ہے کسن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کیلئے خرچ نہ کرو۔" اس موقع پر ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بعض فقیر بھی کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی باسی روٹی دیدو۔پھٹا پرانا کپڑا دید و وہ مانگتے ہی پرانا اور باسی ہیں؟ فرمایا:۔" کیا تم نئی دیدو گے؟ وہ کیا کریں جانتے ہیں کہ کوئی نئی نہیں دے گا اس لئے وہ ایسا سوال کرتے ہیں۔جہاں تک ہو سکے مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کرو۔" (احکام نمبر 33 جلد 9 مؤرخہ 24 /ستمبر 1905 ء صفحہ 9) (۱۸۶) سید کیلئے زکوة سوال ہوا کہ غریب سید ہو تو کیا وہ زکوۃ لینے کا مستحق ہوتا ہے؟ فرمایا:۔" اصل میں منع ہے۔اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا مَا اضْطُرِ رُتُمُ إِلَيْهِ (۸/۱ ) حدیث سے فتویٰ تو یہ ہے کہ نہ دینی چاہئے۔اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اسے زکوۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ہاں اگر اضطراری حالت ہو تو اور بات ہے۔" الحکم نمبر 30 جلد 11 مؤرخہ 24 /اگست 1907 ء صفحه (5)