فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 138
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 138 کیونکہ حج کے اعمال بعد میں آتے ہیں مگر آج کل عبادات کی اصل غرض اور مقصد کو ہرگز مد نظر نہیں رکھا جا تا بلکہ عبادات کو رسوم کے رنگ میں ادا کیا جاتا ہے اور وہ نری رسمیں ہی رہ گئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حاجیوں کے متعلق بدظنیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں۔کہتے ہیں ایک اندھی عورت بیٹھی تھی کوئی شخص آیا اور اس کی چادر چھین کر لے گیا وہ عورت چلائی کہ بچہ ! حاجیا ! میری چادر دے جا۔اس نے اس سے پوچھا کہ مائی تو یہ تو بتا کہ یہ کیونکر تجھے معلوم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔اس نے کہا تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے کام حاجی ہی کرتے ہیں۔پس اگر ایسی ہی حالت ہو تو پھر ایسے حج سے کیا فائدہ؟ حج میں قبولیت ہو کیونکر جب کہ گردن پر بہت سے حقوق العباد ہوتے ہیں ان کو تو ادا کرنا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔" الحکم نمبر 33 جلد 9 مورخہ 24 ستمبر 1905 صفحہ 9) (۱۸۴) متوفی کا حج دوسرے آدمی کے ذریعہ سے خوشاب سے ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مرحوم کا ارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے مہلت نہ دی۔کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کر بھیج دیا جاوے۔فرمایا:۔"جائز ہے اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا۔" فرمایا:۔اخبار بدر نمبر 18 جلد 6 مورخہ 02 مئی 1907 ء صفحہ 2) (۱۸۵) زکوۃ کیا ہے؟ زکوۃ کیا ہے؟ يُؤْخَذُ مِنَ الْامَرَاءِ وَيُرَدُّ إِلَى الْفُقَرَاء امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی تھی۔اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے