فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 137

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 137 فرمایا:۔(۱۸۱) موانع حج "حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کیلئے عذر صحیح ہیں چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً۔۔۔۔۔خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اس جگہ جانے سے پر ہیز کرو۔فتنہ کے دنوں میں آنحضرت علی اللہ نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پر ہیز کرو۔مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ - حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کیلئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔" فرمایا:- ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 416,415 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۱۸۲) جماعت کو وصیت "ہر ایک جو ز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرد۔چاہئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگا دے اور بہر حال صدق دکھاوے تا فضل اور روح القدس کا انعام پاوے۔" فرمایا:۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15 و83 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۱۸۳) ہمسایہ فاقہ میں ہو تو شرعاج جائز نہیں "اگر کسی کا ہمسایہ فاقہ میں ہو تو اس کیلئے شرعا حج جائز نہیں مقدم ہمدردی اور اس کی خبر گیری ہے