فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 136

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 136 ان کے ہاتھ سے ہوتا ہے۔کیا اس کا کھانا حلال ہے یا نہیں۔فرمایا کہ:۔بہت تجس کرنا جائز نہیں ہے۔موٹے طور پر جو انسان مشرک یا فاسق ہو اس سے پر ہیز کرو۔عام طور پر اس طرح تجسس کرنے سے بہت سی مشکلات در پیش آتی ہیں۔جو ذبیح اللہ کا نام لے کر کیا جاوے اور اس میں اسلام کے آداب مد نظر ہوں وہ خواہ کسی کا ہو جائز ہے۔" اس کے بعد فرمایا کہ:۔"طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وجودی پیدا کہاں سے ہوئے۔قرآن شریف اور اسلام میں تو ان کا پتہ نہیں ملتا۔مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو صرف دھوکا لگا ہوا ہے جو راستبازا کا برگزرے ہیں وہ اصل میں فنا نظری کے قائل تھے اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان ہر ایک فعل اور حرکت اور سکون میں توجہ اللہ کی طرف رکھے اور اس قدر فانی اس میں ہو کہ گویا اور کسی شے کی قدرت اور حرکت بذاتہ اسے نظر نہ آوے ہر ایک شے کو فانی جان لے اور اس قدر تصرف الہی کے اور کچھ نہیں ہو رہا۔اسی مسئلہ میں غلطی واقعہ ہو کر آخر فنا وجودی تک نوبت آ گئی اور یہ کہنے لگے کہ سوائے خدا کے اور کوئی شے نہیں ہے اپنے آپ کو بھی خدا ماننے لگے۔اس خیال سے یہ مذہب پھیلا ہے کہ فنا نظری کے شوق میں اولیاء اللہ سے کچھ ایسے کلمات نکلے ہیں کہ جن کی الٹی تاویل کر کے یہ وجودی فرقہ بن گیا ہے۔فنا نظری تک انسان کا حق ہے کہ محبوب میں اور اپنے آپ میں کوئی جدائی نہ سمجھے اور من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی، تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری کا مصداق ہو۔کیونکہ محب اور محبوب کا علاقہ فنا نظری کا تقاضا کرتا ہے اور ہر ایک سالک کی راہ میں ہے کہ محبوب کے وجود کو اپنا وجود جانتا ہے لیکن فتا وجودی ایک من گھڑت بات ہے۔جسے ذوق شوق محبت صدق اور وفا اور اعمال صالحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فنا نظری کی مثال وہی ہے جو ماں اور بچے کی ہے کہ اگر کوئی بچے کو مکی مارے تو درد ماں کو ہوتا ہے۔سخت تعلق جو محبت کا ہے یہ اس سے بھی دردناک ہے اور یہ ایک سچی اور حقیقی محبت ہوتی ہے۔لیکن وجودی کا مدعا جھوٹا ہے یہ وہ کرے جو خدا پر محیط ہو۔وجودی چونکہ ترک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے اس لئے طاعت محبت، عبادت الہی سے محروم رہتا ہے۔" (احکم نمبر 25, 26 جلد 8 مؤرخہ 31 جولائی و 10 راگست 1904ء صفحہ 11) اخبار بدر نمبر 27 جلد 3 مؤرخہ 16 جولائی 1904 ، صفحہ 4)