فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 130

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 130 اصل یہ ہے کہ اس وقت سب گدیاں ایک مردہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور زندگی صرف اسی سلسلہ میں ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر قائم کیا ہے۔ اب کیسا نادان ہوگا وہ شخص جو زندوں کو چھوڑ کر مردوں میں زندگی طلب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی چاہا تھا کہ ایک زمانہ فیج اعوج کا ہو اور اس کے بعد ہدایت کا بہت بڑا زمانہ آوے چنانچہ ہدایت کے دو ہی بڑے زمانے ہیں جو دراصل ایک ہی ہیں مگر ان کے درمیان ایک وقفہ ہے اس لئے دو سمجھے جاتے ہیں۔ ایک وہ زمانہ جو پیغمبر خدا صلی اللہ کا زمانہ تھا اور دوسرا مسیح موعود کا زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کو رسول اللہ علیم اللہ ہی کا زمانہ قرار دیا دیا گیا ہے اب رسول اللہ علیم اللہ کے زمانہ میں کسی دوسرے کی بیعت کب جائز ہوسکتی اور قائم رہ سکتی ہے۔ یہ اس شخص کا زمانہ ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ نے سلام کہا۔ اب اس کی بیعت کے سوا سب بیعتیں ٹوٹ گئیں ۔ " الحکم نمبر 30 جلد 6 مؤرخہ 24 اگست 1902 ء صفحه (7) ليه وسلم (۱۶۶) مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟؟ ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔ مولویوں سے جا کر پوچھو کہ ان کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے اس کو جو نہ مانے گا اس کا کیا حال ہے۔ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔ ( بدر ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۶ ) ( یہ اقتباس تا حال اصل ماخذ سے نہیں مل سکا )} (۱۶۷) اپنے صدق دعوئی و منصب خداداد کے متعلق مسیح موعود علیہ السلام کا قسم کھانا ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جس کی نسبت رسول خدا علیم اللہ نے احادیث میں خبر دی ہے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔ میں (حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ۔ ناقل ) نے معمولاً رسالہ تریاق القلوب سے دو ایک ایسے فقرے جو اس کا کافی جواب ہو سکتے تھے لکھ دیئے۔ وہ شخص اس پر قانع نہ ہوا اور پھر مجھے مخاطب کر کے لکھا کہ " میں چاہتا