فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 129
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 129 فرمایا:۔(۱۶۴) زمانہ کے موجودہ گدی نشین و پیرزادوں کا حال اس ملک کے گدی نشین اور پیر زادے دین سے ایسے بے تعلق اور اپنی بدعات میں ایسے دن رات مشغول ہیں کہ ان کو اسلام کی مشکلات اور آفات کی کچھ بھی خبر نہیں۔ان کی مجالس میں اگر جاؤ تو بجائے قرآن شریف اور کتب حدیث کے طرح طرح کے تنبورے اور سارنگیاں اور ڈھولکیاں اور قوال غیرہ اسباب بدعات نظر آئیں گے۔اور پھر باوجود اس کے مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ اور اتباع نبوی کی لاف زنی۔اور بعض اُن میں سے عورتوں کا لباس پہنتے ہیں اور ہاتھوں میں مہندی لگاتے ہیں اور چوڑیاں پہنتے ہیں اور قرآن شریف کی نسبت اشعار پڑھنا اپنی مجلسوں میں پسند کرتے ہیں۔یہ ایسے پرانے زنگار ہیں جو خیال میں نہیں آسکتا کہ دور ہو سکیں۔تا ہم خدائے تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے گا اور اسلام کا حامی ہوگا۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 80,79 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۱۶۵) حضرت مسیح موعود کی بیعت سے پہلے مشائخ کی بیعت ٹوٹ جاتی ہے سوال:۔حضور کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں؟ حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا:۔" جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت تو بہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔اگر کسی کا مرشداب زندہ بھی ہوتب بھی وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ کرے گا جو خدا تعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔ہندوستان میں جس قدر گدیاں اور مشائخ اور مرشد ہیں سب سے ہمارا اختلاف ہے۔بیعت دینی سلسلوں میں ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرتا ہے۔ان لوگوں کا ہمارے مسائل میں اختلاف ہے اگر ان میں سے کسی کو شک ہو کہ وہ حق پر ہیں تو ہمارے ساتھ فیصلہ کر لیں قرآن شریف کو حکم ٹھہرائیں۔