فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 124

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 124 سال کے بعد طرح طرح کے عوارضات لاحق ہو جاتے ہیں نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر نا بینائی آجاتی ہے۔سچ کہا ہے پیری و صد عیب چنین گفته اند۔اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اس کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صد ہارنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔موئے سفیدزا جل آرد پیام اس لئے انسان کو چاہئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجالا وے۔" فرمایا:- الحکم نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 10 دسمبر 1902 صفحہ 9) (۱۵۵) نماز وحج کی حقیقت عبادت کے دو حصے تھے ایک وہ جو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو ڈرنے کا حق ہے خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی روح گداز ہوکر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے۔دوسرا حصہ عبادت کا یہ ہے کہ انسان خدا سے محبت کرے جو محبت کرنے کا حق ہے اسی لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ اور دنیا کی ساری محبتوں کو فانی اور آنی سمجھ کر حقیقی محبوب اللہ تعالیٰ ہی کو قراردیا جاوے۔یہ دو حق ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی نسبت انسان سے مانگتا ہے ان دونوں قسم کے حقوق کے ادا کرنے کیلئے یوں تو ہر قسم کی عبادت اپنے اندر ایک رنگ رکھتی ہے مگر اسلام نے دو مخصوص صورتیں عبادت کی اس کیلئے مقرر کی ہوئی ہیں۔خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی اور جس قدر محبت الہی میں وہ ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر یا کیزگی کی طرف لے جائے گا۔