فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 119
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 119 بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اس سے بھی تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تو ہوگا جو بادشاہ ایسا کریں گے۔اصل بات یہ ہے کہ ان باتوں کی بنا محبت و اخلاص پر ہے۔" صادقوں کی نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ:۔" بزرگوں کے صغائر پر نظر کرنے سے سلب ایمان کا اندیشہ ہے۔" الحکم نمبر 26 جلد 7 مؤرخہ 17 / جولائی 1903 ء صفحہ 10) (۱۴۹) کلام پڑھ کر پھونکنا ایک دوست نے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جاوے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار کو دم کروں تا کہ اس کو شفا ہو۔حضرت نے فرمایا:۔" بے شک قرآن شریف میں شفا ہے۔روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر اس طرح کے کلام پڑھنے میں لوگوں کو ابتلا ہے۔قرآن شریف کو تم اس امتحان میں نہ ڈالو۔خدا تعالیٰ سے اپنے بیمار کے واسطے دعا کرو تمہارے واسطے یہی کافی ہے۔" اخبار نمبر 43 جلد 2 مؤرخہ 25 اکتوبر 1906 ء صفحہ 4) (۱۵۰) طعام پر فاتحہ خوانی و منت ماننا سوال:۔روٹیوں پر فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔" کیا آنحضرت صلی اللہ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا ہے؟" الحکم نمبر 11 جلد 7 مؤرخہ 24 / مارچ 1903 صفحہ 5) ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلاؤں گا۔اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کہ:۔" خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے۔میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری