فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 117

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 117 خدا تعالیٰ کو خدا تعالی کی جگہ پر رکھو اور انسان کو انسان کا مرتبہ دو اس سے آگے مت بڑھاؤ۔مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ حفظ مراتب نہیں کیا جاتا زندہ اور مردہ کی تفریق ہی نہیں رہی بلکہ انسان عاجز اور خدائے قادر میں بھی کوئی فرق اس زمانہ میں نہیں کیا جاتا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے صدیوں سے خدا تعالیٰ کا قدر نہیں پہنچانا گیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت عاجز بندوں اور بے قدر چیزوں کو دی گئی۔مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن باوجود مسلمان کہلانے کے خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔جیسا کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسیح بن مریم کو جو ایک عاجز انسان تھا اور اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا اور آنحضرت علی اللہ مبعوث نہ ہوئے ہوتے تو اس کی رسالت بھی ثابت نہ ہوتی بلکہ انجیل سے تو وہ کوئی اعلیٰ اخلاق کا آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا لیکن عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہو کر مسلمان بھی ان کو خدائی درجہ دینے میں پیچھے نہیں رہے کیونکہ جیسا کہ وہ صاف مانتے ہیں کہ وہ اب تک حی و قیوم ہے اور زمانہ کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوا۔آسمان پر موجود ہے۔مردوں کو زندہ کیا کرتا تھا۔جانوروں کو پیدا کرتا تھا۔غیب جاننے والا تھا۔پھر اس کے خدا بنانے میں اور کیا باقی رہا۔افسوس مسلمانوں کی عقل ماری گئی جو ایک خدا کے ماننے والے تھے وہ اب ایک مردہ کو خدا سمجھتے ہیں اور ان خداؤں کا تو شمار نہیں جو مردہ پرستوں اور مزار پرستوں نے بنائے ہوئے ہیں۔ایسی حالت اور صورت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان مصنوعی خداؤں کی خدائی کو خاک میں ملایا جاوے اور زندوں اور مردوں میں ایک امتیاز قائم کر کے دنیا کو حقیقی خدا کے سامنے سجدہ کرایا جاوے۔اسی غرض کیلئے اس نے مجھے بھیجا ہے اور اپنے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے۔یا درکھوا نبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا وہ صرف اسی بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کتنے بڑے عظیم الشان نبی تھے اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کا کتنا بڑا درجہ اور رتبہ تھا۔اب اگر آنحضرت علی یا اللہ بجائے خدا تعالیٰ کے حضور گر نیکے ابراہیم کی پوجا کرتے تو