فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 112

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 112 جانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کر کے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔۔قرآن کریم کے منشاء کے موافق تو زندوں ہی کی صحبت میں رہنا ثابت ہوتا ہے اور استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پہلے صفات الہی رب ، رحمن ، رحیم ، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا پھر سکھایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمد ادبھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے کسی انسان، حیوان، چرند، پرند غرضیکہ کسی مخلوق کیلئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں ہے۔غرض ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ مردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں۔اگر مردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوتے ہیں اس کا کیا مطلب تھا۔مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتا؟ اگر اسلام مردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقیناً سمجھو کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا۔یہودیوں کا مذہب مردوں کے حوالے کیا گیا نتیجہ کیا ہوا؟ عیسائیوں نے مردہ پرستی سے بتلاؤ کیا پایا؟ مردوں کو پوجتے پوجتے خود مردہ ہو گئے۔نہ مذہب میں زندگی کی روح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔اوّل سے لے کر آخر تک مردوں ہی کا مجمع ہو گیا۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خداحی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔وہ جی و قیوم خدا تو بار بار مردوں کو جلاتا ہے يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے نہیں ہرگز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحَافِظُون کہ کر اٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔یاد رکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے