فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 111
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 111 خواجہ باقی باللہ صاحب بڑے مشائخ میں سے تھے شیخ احمد سر ہندی کے پیر تھے۔مجھے خیال آتا ہے کہ ان بزرگوں کی ایک کرامت تو ہم نے بھی دیکھ لی ہے اور وہ یہ ہے کہ دہلی جیسے شہر کو انہوں نے قائل کیا اور یہ وہ شہر ہے جو ہم کو مردود اور مخذول اور کافر کہتا ہے۔" خواجہ باقی باللہ کی قبر پر کھڑے ہو کر بعد دعا کے فرمایا کہ:۔ان تمام بزرگوں کی جو دہلی میں مدفون ہیں کرامت ظاہر ہے کہ ایسی سخت سرزمین نے ان کو قبول کیا۔یہ کرامت اب تک ہم سے ظہور میں نہیں آئی۔" ( اخبار بدر نمبر 31 جلد 1 مؤرخہ 31 اکتوبر 1905 ، صفحہ 2,1) (۱۴۰) ذلّت کا رزق قبر پر بہت سے سائل جمع تھے۔فرمایا:۔" یہ سائلین بہت پیچھے پڑتے ہیں۔پہلے معلوم نہ تھاور نہ ان کے واسطے کچھ پیسے ساتھ لے آتے۔شیخ نظام الدین کی قبر پر سائل اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔یہی ان کا رزق ہو گیا ہے جو ذلت کا رزق ہے۔" اخبار بدر نمبر 31 جلد 1 مؤرخہ 31 /اکتوبر 1905 ء صفحہ 2) (۱۴۱) مردوں سے امداد ( تقریر مورخہ 14 مئی 1900ء) جناب سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد دکن کے اس سوال کہ کیا مردوں سے استعانت مانگنی چاہیے کے جواب میں فرمایا:۔" بات یہ ہے کہ مردوں سے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مردوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دور بھاگتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ ان کی نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کر گئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں کے پاس