فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 106

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 106 سب کام دیتا تو پھر اس قدر قوی کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے، بعض زبان سے متعلق ہیں اور بعض ناک سے۔مختلف قسم کی حسیں انسان رکھتا ہے۔قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کیلئے کشفی قوت اور جس کی ضرورت ہے۔اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء وصلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں۔گو اس کی سمت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہوسکتا۔غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرورت ہوتا ہے۔انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کیلئے ایک مقام ملتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو فی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلا دے گی۔" الحکم نمبر 3 جلد 3 مؤرخہ 23 جنوری 1899 ء صفحہ 3,2) (۱۳۴) بکر اوغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکر اوغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔"شریعت کی بنا نرمی پر ہے ختی پر نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع و شرا میں آ جاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے۔زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور