فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 106
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 106 سب کام دیتا تو پھر اس قدر قوی کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے ، بعض زبان سے متعلق ہیں اور بعض ناک سے۔ مختلف قسم کی حسیں انسان رکھتا ہے۔ قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کیلئے کشفی قوت اور حس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء وصلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں۔ گو اس کی سمت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ ، گر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔ کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرورت ہوتا ہے۔ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے۔ روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کیلئے ایک مقام ملتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسلمہ مسئلہ ہے بجز اس فرقہ کے جو نفعی بقائے روح کرتا ہے اور یہ امر کہ کسی جگہ تعلق ہے کشفی جونئی کرتا ہےاور یہ امر کہ ہے قوت خود ہی بتلا دے گی ۔" الحکم نمبر 3 جلد 3 مورخہ 23 جنوری 1899 ء صفحہ (32) (۱۳۴) بکر اوغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکر اوغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔ "شریعت کی بنانرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیچ وشرا میں آ جاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور