فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 98

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہے؟ فرمایا:۔ان میں سے ایک ہے۔" 98 اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ملاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں یہ بھی الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 /اپریل 1903 ، صفحہ 10 ) (۱۱۹) مرنے کے بعد فاتحہ خوانی سوال پیش ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔فاتحہ خوانی ایک دعائے مغفرت ہے پس اس میں کیا مضائقہ ہے۔فرمایا کہ:۔"ہم تو دیکھتے ہیں وہاں سوائے غیبت اور بیہودہ بکو اس کے اور کچھ نہیں ہوتا پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم یا صحابہ کرام و آئمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا۔جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی۔ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں ناجائز ہے۔" فرمایا:۔اخبار بدر نمبر 19 جلد 6 مؤرخہ 9 رمئی 1907 ء صفحہ 5) (۱۲۰) جنازہ غائب " جو جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں وہ اپنے طور سے دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔اخبار بدر نمبر 19 جلد 6 مؤرخہ 19 مئی 1907 ، صفحہ 5) (۱۲۱) شہید کا جنازہ ذکر تھا کہ بعض جگہ چھوٹے گاؤں میں ایک ہی احمدی گھر ہے اور مخالف ایسے متعصب ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی احمدی مرجائے گا تو ہم جنازہ بھی نہ پڑھیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ:۔" ایسے مخالفوں کا جنازہ پڑھا کر احمدی نے کیا لینا ہے جنازہ تو دعا ہے جو شخص خود ہی خدا کے نزدیک مغضوب علیہم میں ہے اس کی دعا کا کیا اثر ہے۔احمدی شہید کا جنازہ خود فرشتے پڑھیں گے ایسے لوگوں کی ہرگز پروانہ کرو اور اپنے خدا پر بھروسہ کرو۔" (اخبار بدر نمبر 20 جلد 6 مؤرخہ 16 مئی 1907 ء صفحہ 3)