فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 95
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 95 (۱۱۴) تصویر کشی منشی نظیر حسین صاحب نے سوال کیا کہ میں فوٹو کے ذریعہ تصویریں اُتارا کرتا تھا اور دل میں ڈرتا تھا کہ کہیں یہ خلاف شرع نہ ہو لیکن جناب کی تصویر کو دیکھ کر یہ وہم جاتا رہا۔فرمایا:۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ہم نے اپنی تصویر محض اس لحاظ سے اتروائی تھی کہ یورپ کو تبلیغ کرتے وقت ساتھ تصویر بھیج دیں کیونکہ ان لوگوں کا عام مذاق اسی قسم کا ہو گیا ہے کہ وہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی اس کی تصویر دیتے ہیں جس سے وہ قیافہ کی مدد سے بہت سے صحیح نتائج نکال لیتے ہیں۔مولوی لوگ جو میری تصویر پر اعتراض کرتے ہیں وہ خود اپنے پاس روپیہ پیسہ کیوں رکھتے ہیں کیا ان پر تصویریں نہیں ہوتی ہیں؟ اسلام ایک ایسا وسیع مذہب ہے جو ہر بات کا مدار تیات پر رکھتا ہے۔بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدان جنگ میں نکلا جو اترا کر چلتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بُری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا مگر اس وقت یہ چال خدا کو بہت ہی پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک شار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جاوے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔اسی طرح پر ایک مرتبہ آنحضرت نے فرمایا کہ جس کا تہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا نہ بند بھی ویسا تھا۔آپ نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظ مراتب ضروری شے ہے۔" منشی نظیر حسین صاحب۔میں خود تصویر کشی کرتا ہوں اس کیلئے کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔" اگر کفر اور بت پرستی کو مدد نہیں دیتے ہو تو جائز ہے آج کل نقوش وقیافہ کا علم بہت بڑھا ہوا ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 20, 21 جلد 3 مؤرخہ 24 مئی و یکم جون 1904 صفحہ 10) (۱۱۵) حرمت تصویر بازی ذکر آیا کہ ایک شخص نے حضور کی تصویر ڈاک کے کارڈ پر چھپواتی ہے تا کہ لوگ ان کارڈوں کو خرید