پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 16
گھر میں بجلی بی تھی ، شام کو اُن کے گلوب میں مٹی کا تیل بھرنا اور ایک بوتل بھر کر ان کی چار پائی کے نیچے رکھنا میری ڈیوٹی ہوتی تھی۔رات کو اکٹر تین بجے پڑھنے کے لیے اُٹھ جاتے تھے۔اس وقت انہوں نے دوبارہ تیل بھر کر پڑھائی شروع کرنی اور صبح ہمارے اُٹھنے سے پہلے آرام کے لئے لیٹ جانا۔اکثر وہ رات کی خاموشی میں پڑھتے تھے۔“ اسی طرح ان کی بہن کہتی ہیں :۔خط بنام خاکسار 26 / مارچ 1982ء) ”چھوٹے بہن بھائیوں سے پیار سے بولنا تعلیم میں ان کی مدد کر نی لیکن اس رنگ میں نہیں کہ انہیں کام کر کے دے دینا۔کہنا خود کر کے لے آؤ جو سمجھ نہ آئے میں بتادوں گا۔“ خط بنام خاکسار 26 / مارچ1982ء) 1942ء میں ایف اے کرنے کے بعد سلام گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔اس وقت وہ سولہ سال کے تھے۔اُن دنوں اُن کے والد محکمہ تعلیم میں ملتان ہوتے تھے، اس لیے انہیں لا ہور ہوسٹل میں رہنا پڑا جہاں انہیں شطرنج کھیلنے کی عادت پڑ گئی۔ان کے دوستوں کو ڈر پیدا ہوا کی کھیل میں وقت ضائع کرنے کی وجہ سے سلام کہیں لڑکوں سے پیچھے نہ رہ جائے اس لیے انہوں نے ان کے والد کو ملتان خط لکھا اور سلام کی شکایت کی۔سلام کے والد ناراض ہوئے اور بیٹے کو شطرنج میں وقت ضائع کرنے سے منع کیا۔چنانچہ سلام فوراً رُک گئے اور زیادہ محنت سے پڑھنے لگے۔وہ اپنے کمرے میں اپنے آپ کو بند کر لیتے اور باہر دروازے پر تالا لگوا دیتے اور چودہ چودہ گھنٹے مسلسل پڑھتے رہتے۔کتابیں ترتیب 16