پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 51
نماز جنازہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین 22 رنومبر 1996ء کونماز جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی مسجد فضل لندن کے باہر نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثرت سے احباب شامل ہوئے۔جنازہ پڑھانے سے قبل حضور نے اپنے با برکت ہاتھوں سے ان پر کچھ چھڑ کا اور محبت بھری نگاہوں سے دیر تک دیکھتے رہے۔اور ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور تابوت کو وین (Van) تک کندھا دیا۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی شدید خواہش تھی کہ ان کو ان کے وطن پاکستان میں ان کے والدین کے قدموں میں دفن کیا جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کو قبول فرما یا اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور منظوری سے ان کا تابوت جہاز پر لندن سے لاہور لایا گیا۔وہاں پر بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔24 نومبر شام سات بجے تابوت ربوہ پہنچایا گیا۔ڈاکٹر صاحب کے بیوی بچے لندن سے ساتھ آئے تھے۔باقی رشتہ دار بھی اور جماعت احمدیہ کے بہت سارے لوگ بھی اس موقع پر ربوہ پہنچ گئے جہاں حضرت مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور نہایت وقار اور نظم وضبط کے ساتھ ہزاروں لوگوں کے جلوس میں انہیں بہشتی مقبرہ ربوہ پہنچایا گیا جہاں ان کے والدین کی قبروں والے قطعہ ( نمبر 12 ) میں ان کی 51