فقہ المسیح — Page 40
فقه المسيح 40 علم فقہ اور فقہاء میں بھی تو کوئی نظیر موجود نہیں اور ان کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ (الاحقاف: 11) اور پھر فرمایا كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ (الرعد: 44) اور ایسا ہی فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَ هُمُ (البقره : 147) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لیے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا ؟ لیکچرلدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 297،296) مقلدوں اور غیر مقلدوں کے اختلافات ابھی بہت زمانہ نہیں گذرا کہ مُقلّد غیر مقلدوں کی غلطیاں نکالتے اور وہ ان کی غلطیاں ظاہر کرتے اور اس طرح پر دوسرے فرقے آپس میں درندوں کی طرح لڑتے جھگڑتے تھے۔ایک دوسرے کو کافر کہتے اور نجس بتاتے تھے۔اگر کوئی تسلی کی راہ موجود تھی ، تو پھر اس قدر اختلاف اور تفرقہ ایک ہی قوم میں کیوں تھا ؟ غلطیاں واقع ہو چکی تھیں اور لوگ حقیقت کی راہ سے دور جا پڑے تھے۔ایسے اختلاف کے وقت ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ خود فیصلہ کرتا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک حکم ان میں بھیج دیا۔اب بتاؤ کہ میں نے کیا زیادتی کی ہے یا کیا قرآن شریف سے کم کر دیا ہے جو میری مخالفت کے لیے اس قدر جوش (الحکم 30 ستمبر 1904 صفحہ 3 ) پیدا ہوا ہوا ہے۔مولوی عبداللہ چکڑالوی کے خلاف وجوہ کفر حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ مولوی محمد حسین صاحب کا ایک رسالہ آیا ہے جس میں چینیاں والی مسجد میں قیامت کے عنوان سے اس نے ایک مضمون لکھا