فقہ المسیح — Page 39
فقه المسيح 39 علم فقہ اور فقہاء قیاس کی حجت۔۔۔۔ان ساری باتوں کے علاوہ میں اب قیاس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میرے ساتھ ہیں۔اجماع صحابہ بھی میری تائید کرتا ہے۔نشانات اور تائیدات الہیہ میری موید ہیں۔ضرورت وقت میرا صادق ہونا ظاہر کرتی ہے لیکن قیاس کے ذریعہ سے بھی حجت پوری ہوسکتی ہے۔اس لیے دیکھنا چاہیے کہ قیاس کیا کہتا ہے؟ انسان کبھی کسی ایسی چیز کے مانے کو تیار نہیں ہو سکتا جو اپنی نظیر نہ رکھتی ہو۔مثلاً اگر ایک شخص آ کر کہے کہ تمہارے بچے کو ہوا اڑا کر آسمان پر لے گئی ہے یا بچہ کتا بن کر بھاگ گیا ہے تو کیا تم اس کی بات کو بلا وجہ معقول اور بلا تحقیق مان لو گے؟ کبھی نہیں ، اس لیے قرآن مجید نے فرمایا: فَاسْتَلُوا أَهْلَ الذِكرِانُ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل: 44) اب مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ پر اور اُن کے آسمان پر اڑ جانے کے متعلق غور کرو۔قطع نظر ان دلائل کے جو ان کی وفات کے متعلق ہیں۔یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے جواب دیا۔قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسرائیل: 94) اس کا مفہوم یہ ہے کہ کبد واللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اس نے بشر کے لیے آسمان پر مع جسم جانا حرام کر دیا ہے اگر میں جاؤں تو جھوٹا ٹھہروں گا۔اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو۔پس ایسی باتوں کے ماننے سے کیا فائدہ جن کا کوئی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں۔اس طرح پر تم اسلام کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے والے ٹھہرو گے۔پھر پہلی کتابوں