فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 548 of 611

فقہ المسیح — Page 548

فقه المسيح 548 جلسہ سالانہ کا انعقاد ہے جن کو نہ دین کی عقل دی گئی نہ دنیا کی۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں کسی دینی تعلیم کی مجلس پر تاریخ مقرر کرنے کے لئے ایک خاص باب منعقد کیا ہے جس کا یہ عنوان ہے مَنْ جَعَلَ لَا هَلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَّعْلُومَةً یعنی علم کے طالبوں کے افادہ کے لئے خاص دنوں کو مقرر کرنا بعض صحابہ کی سنت ہے۔اس ثبوت کے لئے امام موصوف اپنی صحیح میں ابی وائل سے یہ راویت کرتے ہیں كَانَ عَبْدُ اللهِ يُذَكَرُ النَّاسَ فِى كُلّ خَمِيسِ یعنی عبداللہ نے اپنے وعظ کے لئے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا تھا اور جمعرات میں ہی اس کے وعظ پر لوگ حاضر ہوتے تھے۔یہ بھی یادر ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کے لئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کے لئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن غالب ہونے کے لئے مفید خیال کریں وہی بجالا ویں جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا وَاعِدُّوْالَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (الانفال : (61) یعنی دینی دشمنوں کے لئے ہر ایک قسم کی طیاری جو کر سکتے ہو کرو اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے جو قوت لگا سکتے ہول گاؤ۔اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تدبیریں خدمت اسلام کے لئے کارگر ہوں سب بجالا ؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی ، اپنے بازو کی ، اپنی مالی طاقت کی ، اپنے احسن انتظام کی ، اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تا تم فتح پاؤ۔اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پر اسلام کی تبلیغ کے لئے حسن انتظام بدعت نہیں کہلا سکتا 66 ہے اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ برطبق حدیث نبوی کہ انما الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کے لئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کوئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی یانئے نئے