فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 611

فقہ المسیح — Page 547

فقه المسيح کس بات کی ترغیب دیتی ہے۔“ 547 جلسہ سالانہ کا انعقاد اس اعتراض کا جواب کہ جلسہ کے لئے خاص تاریخ کیوں مقرر کی؟ اور اگر کسی کے دل میں یہ دھو کہ ہو کہ اس دینی جلسہ کے لئے ایک خاص تاریخ کیوں مقرر کی ایسا فعل رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے کب ثابت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کو دیکھو کہ اہل بادیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسائل کے دریافت کرنے کے لئے اپنی فرصت کے وقتوں میں آیا کرتے تھے اور بعض خاص خاص مہینوں میں ان کے گروہ فرصت پا کر حاضر خدمت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ہوا کرتے تھے اور صحیح بخاری میں ابی جمرہ سے روایت ہے قَالَ إِنَّ وَفَدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَام یعنی ایک گروہ قبیلہ عبدالقیس کے پیغام لانے والوں کا جو اپنی قوم کی طرف سے آئے تھے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ہم لوگ دور سے سفر کر کے آتے ہیں اور بجز حرام مہینوں کے ہم حاضر خدمت نہیں ہو سکتے اور ان کے قول کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے رڈ نہیں کیا اور قبول کیا۔پس اس حدیث سے بھی یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جو لوگ طلب علم یا دینی ملاقات کے لئے کسی اپنے مقتداء کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیں۔وہ اپنی گنجایش فرصت کے لحاظ سے ایک تاریخ مقرر کر سکتے ہیں۔جس تاریخ میں وہ بآسانی اور بلا حرج حاضر ہوسکیں اور یہی صورت 27 دسمبر کی تاریخ میں ملحوظ ہے کیونکہ وہ دن تعطیلوں کے ہوتے ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ بسہولت اُن دنوں میں آ سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس دین میں کوئی حرج کی بات نہیں رکھی گئی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مثلاً کسی تدبیر یا انتظام سے ایک کام جو دراصل جائز اور روا ہے سہل اور آسان ہوسکتا ہے تو وہی تدبیر اختیار کر لو کچھ مضائقہ نہیں ان باتوں کا نام بدعت رکھنا ان اندھوں کا کام