فقہ المسیح — Page 546
فقه المسيح 546 جلسہ سالانہ کا انعقاد کلمہ گو، اہل قبلہ اور اللہ رسول پر ایمان لاتا ہے، مردود رکھا اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بکلی محروم قرار دیا اور اس صحیح حدیث بخاری کی بھی کچھ پرواہ نہ کی کہ اَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَا عَتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ اَوْ نَفْسِهِ اور مردود ٹھہرانے کی اپنے فتویٰ میں وجہ یہ ٹھہرائی کہ ایسا اشتہار کیوں شائع کیا اور لوگوں کو جلسہ پر بلانے کے لئے کیوں دعوت کی۔اے ناخدا ترس ذرا آنکھ کھول اور پڑھ کہ اس اشتہار 7 دسمبر 1892ء کا کیا مضمون ہے۔کیا اپنی جماعت کو طلب علم اور حل مشکلات دین اور ہمدردی اسلام اور برادرانہ ملاقات کے لئے بلایا ہے یا اس میں کسی اور میلہ تماشا اور راگ اور سرود کا ذکر ہے۔اے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو! تم اللہ جل شانہ سے کیوں نہیں ڈرتے۔کیا ایک دن مرنا نہیں یا ہر یک مؤاخذہ تم کو معاف ہے۔حق بات کو سن کر اور اللہ اور رسول کے فرمودہ کو دیکھ کر تمہیں یہ خیال تو نہیں آتا کہ اب اپنی ضد سے باز آ جائیں بلکہ مقدمہ باز لوگوں کی طرح یہ خیال آتا ہے کہ آؤ کسی طرح باتوں کو بنا کر اس کا رڈ چھاپیں تا لوگ نہ کہیں کہ ہمارے مولوی صاحب کو کچھ جواب نہ آیا۔اس قدر دلیری اور بد دیانتی اور یہ بخل اور بغض کس عمر کے لئے۔آپ کو فتویٰ لکھنے کے وقت وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں علم دین کے لیے اور اپنے شبہات دور کرنے کے لئے اور اپنے دینی بھائی اور عزیزوں کو ملنے کے لئے سفر کرنے کو موجب ثواب کثیر واجر عظیم قرار دیا ہے بلکہ زیارت صالحین کے لئے سفر کرنا قدیم سے سنت سلف صالح چلی آئی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب قیامت کے دن ایک شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے سخت مواخذہ میں ہوگا تو اللہ جل شانہ اس سے پوچھے گا کہ فلاں صالح آدمی کی ملاقات کے لئے کبھی تو گیا تھا تو وہ کہے گا بالا رادہ تو کبھی نہیں گیا مگر ایک دفعہ ایک راہ میں اس کی ملاقات ہو گئی تھی۔تب خدا تعالیٰ کہے گا کہ جا بہشت میں داخل ہو۔میں نے اسی ملاقات کی وجہ سے تجھے بخش دیا۔اب اے کو تہ نظر مولوی ذرا نظر کر کہ یہ حدیث