فقہ المسیح — Page 545
فقه المسيح صورتوں میں وجوب ثابت ہوتا ہے“ 545 قرآن اور حدیث میں مختلف سفروں کی ترغیب جلسہ سالانہ کا انعقاد اور امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کے لئے مشہور ہیں شاید میاں رحیم بخش کو خبر نہیں ہوگی اور کبھی سفر عجائبات دنیا کے دیکھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ قُلْ سِيرُوا فِي الأَرْضِ (الانعام :12) اشارت فرمارہی ہے اور کبھی سفر صادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُومَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة : 119) ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کے لئے بلکہ اتباع خیار کے لئے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیمار دار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کے لئے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے رُو سے جائز ہیں بلکہ زیارت صالحین اور ملاقات اخوان اور طلب علم کے سفر کی نسبت احادیث صحیحہ میں بہت کچھ حف و ترغیب پائی جاتی ہے۔اگر اس وقت وہ تمام حدیثیں لکھی جائیں تو ایک کتاب بنتی ہے۔ایسے فتویٰ لکھانے والے اور لکھنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو بھی تو اکثر اس قسم کے سفر پیش آ جاتے ہیں۔پس اگر بجز تین مسجدوں کے اور تمام سفر کرنے حرام ہیں تو چاہیے کہ یہ لوگ اپنے تمام رشتے ناطے اور عزیز اقارب چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کبھی اُن کی ملاقات یا ان کی غم خواری یا ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی سفر نہ کریں۔میں خیال نہیں کرتا کہ بجز ایسے آدمی کے جس کو تعصب اور جہالت نے اندھا کر دیا ہو۔وہ ان تمام سفروں کے جواز میں متامل ہو سکے صحیح بخاری کا صفحہ 16 کھول کر دیکھو کہ سفر طلب علم کے لئے کس قدر بشارت دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ یعنی جو شخص طلب علم کے لئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خدا تعالے بہشت کی راہ اس پر آسان کر دیتا ہے۔اب اے ظالم مولوی ذرا انصاف کر کہ تو نے اپنے بھائی کا نام جو تیری طرح