فقہ المسیح — Page 544
فقه المسيح 544 جلسہ سالانہ کا انعقاد بآسانی ہمیں مل سکتا ہے اور اس کے ضمن میں ان کی باہم ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔تو اس سہل طریق سے فائدہ اٹھانا کیوں حرام ہے۔تعجب کہ مولوی صاحب نے اس عاجز کا نام مردو د تو رکھ دیا مگر آپ کو وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں طلب علم کے لئے پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نسبت ترغیب دی ہے اور جن میں ایک بھائی مسلمان کی ملاقات کے لیے جانا موجب خوشنودی خدائے عزوجل قرار دیا ہے اور جن میں سفر کر کے زیارت صالحین کرنا موجب مغفرت اور کفارہ گناہاں لکھا ہے۔“ مختلف اغراض کے لئے سفر ” اور یادر ہے کہ یہ سراسر جہالت ہے کہ شدّ رحال کی حدیث کا یہ مطلب سمجھا جائے که بجز قصد خانہ کعبہ یا مسجد نبوی یا بیت المقدس اور تمام سفر حرام ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں کو مختلف اغراض کے لئے سفر کرنے پڑتے ہیں۔کبھی سفر طلب علم ہی کے لیے ہوتا ہے اور کبھی سفر ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کے لئے۔یا مثلاً عورتوں کا سفر اپنے والدین کے ملنے کے لئے یا والدین کا اپنی لڑکیوں کی ملاقات کے لئے اور کبھی مرد اپنی شادی کے لئے اور کبھی تلاش معاش کے لئے اور کبھی پیغام رسانی کے طور پر اور کبھی زیارت صالحین کے لئے سفر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت اویس قرنی کے ملنے کے لئے سفر کیا تھا اور کبھی سفر جہاد کے لئے بھی ہوتا ہے خواہ وہ جہاد تلوار سے ہو اور خواہ بطور مباحثہ کے اور کبھی سفر بہ نیت مباہلہ ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کبھی سفر اپنے مرشد کے ملنے کے لئے جیسا کہ ہمیشہ اولیاء کبار جن میں سے حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اور حضرت بایزید بسطامی اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجد دالف ثانی بھی ہیں۔اکثر اس غرض سے بھی سفر کرتے رہے جن کے سفر نامے اکثر اُن کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اب تک پائے جاتے ہیں اور کبھی سفر فتوئی پوچھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے اس کا جواز بلکہ بعض