فقہ المسیح — Page 543
فقه المسيح 543 جلسہ سالانہ کا انعقاد زیادہ ہوگا، قادیان میں ایک مکان بنوایا جس کی امداد خرچ میں اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سو روپیہ دیا ہے۔اس استفتاء کے جواب میں میاں رحیم بخش صاحب نے ایک طول طویل عبارت ایک غیر متعلق حدیث شد رحال کے حوالہ سے لکھی ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کے لئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔“ طلب علم دین کے لئے سفر کی فضیلت ”اب منصف مزاج لوگ ایما نا کہیں کہ ایسے مولویوں اور مفتیوں کا اسلام میں موجود ہونا قیامت کی نشانی ہے یا نہیں۔اے بھلے مانس ! کیا تجھے خبر نہیں کہ علم دین کے لئے سفر کرنے کے بارے میں صرف اجازت ہی نہیں بلکہ قرآن اور شارع علیہ السلام نے اس کو فرض ٹھہرا دیا ہے جس کا عمداً تارک مرتکب کبیرہ اور عمداً انکار پر اصرار بعض صورتوں میں گفر۔کیا تجھے معلوم نہیں کہ نہایت تاکید سے فرمایا گیا ہے کہ طَلَبُ العِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلى كُلِّ مُسْلِمٍ و مُسْلِمَةٍ اور فرمایا گیا ہے کہ اُطلُبُو الْعِلْمَ وَ لَوْ كَانَ فِی الصّينِ یعنی علم طلب کرنا ہر یک مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور علم کو طلب کرو اگر چہ چین میں جانا پڑے۔اب سوچو کہ جس حالت میں یہ عاجز اپنے صریح صریح اور ظاہر ظاہر الفاظ سے اشتہار میں لکھ چکا کہ یہ سفر ہر یک مخلص کا طلب علم کی نیت سے ہوگا۔پھر یہ فتویٰ دینا کہ جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے کس قدر دیانت اور امانت اور انصاف اور تقویٰ اور طہارت سے دور ہے۔رہی یہ بات کہ ایک تاریخ مقررہ پر تمام بھائیوں کا جمع ہونا تو یہ صرف انتظام ہے اور انتظام سے کوئی کام کرنا اسلام میں کوئی مذموم امر اور بدعت نہیں۔إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بدظنی کے مادہ فاسدہ کو ذرا دور کر کے دیکھو کہ ایک تاریخ پر آنے میں کونسی بدعت ہے جب کہ 27 دسمبر کو ہر یک مخلص