فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 531 of 611

فقہ المسیح — Page 531

فقه المسيح 531 جہاد کی حقیقت صاحب توجہ نہیں کریں گے اور آخری نتیجہ اس کا اُس گورنمنٹ کے لئے خود جمتیں ہیں جو ملاؤں کے ایسے فتووں پر خاموش بیٹھی رہے کیونکہ آج کل ان ملاؤں اور مولویوں کی یہ عادت ہے کہ ایک ادنی اختلاف مذہبی کی وجہ سے ایک شخص یا ایک فرقہ کو کا فر ٹھہرا دیتے ہیں اور پھر جو کافروں کی نسبت اُن کے فتوے جہاد وغیرہ کے ہیں وہی فتوے ان کی نسبت بھی جاری کئے جاتے ہیں۔پس اس صورت میں امیر صاحب بھی ان فتووں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ممکن ہے کہ کسی وقت یہ ملا لوگ کسی جزوی بات پر امیر صاحب پر ناراض ہو کر اُن کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیں اور پھر اُن کے لئے بھی وہی جہاد کے فتوے لکھے جائیں جو کفار کے لئے وہ لکھا کرتے ہیں پس بلا شبہ وہ لوگ جن کے ہاتھ میں مومن یا کافر بنانا اور پھر اس پر جہاد کا فتویٰ لکھنا ہے ایک خطر ناک قوم ہے جن سے امیر صاحب کو بھی بے فکر نہیں بیٹھنا چاہئے اور بلاشبہ ہر ایک گورنمنٹ کے لئے بغاوت کا سر چشمہ یہی لوگ ہیں۔عوام بے چارے ان لوگوں کے قابو میں ہیں اور ان کے دلوں کی کل ان کے ہاتھ میں ہے جس طرف چاہیں پھیر دیں اور ایک دم میں قیامت برپا کر دیں۔پس یہ گناہ کی بات نہیں ہے کہ عوام کو ان کے پنجہ سے چھڑا دیا جائے اور خود ان کو نرمی سے جہاد کے مسئلہ کی اصل حقیقت سمجھا دی جائے۔اسلام ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ مسلمان رہزنوں اور ڈاکوؤں کی طرح بن جائیں اور جہاد کے بہانہ سے اپنے نفس کی خواہشیں پوری کریں اور چونکہ اسلام میں بغیر بادشاہ کے حکم کے کسی طرح جہاد درست نہیں اور اس کو عوام بھی جانتے ہیں۔اس لئے یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جو حقیقت سے بے خبر ہیں اپنے دلوں میں امیر صاحب پر یہ الزام لگا دیں کہ اُنہی کے اشارہ سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔لہذا امیر صاحب کا ضرور یہ فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس غلط فتوے کو روکنے کے لئے جہد بلیغ فرما دیں کہ اس صورت میں امیر صاحب کی بریت بھی آفتاب کی طرح چمک اٹھے گی اور ثواب بھی ہوگا کیونکہ حقوق عباد پر نظر کر کے اس سے