فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 611

فقہ المسیح — Page 532

فقه المسيح 532 جہاد کی حقیقت بڑھ کر اور کوئی نیکی نہیں کہ مظلوموں کی گردنوں کو ظالموں کی تلوار سے چھڑایا جائے اور چونکہ ایسے کام کرنے والے اور غازی بننے کی نیت سے تلوار چلانے والے اکثر افغان ہی ہیں جن کا امیر صاحب کے ملک میں ایک معتد بہ حصہ ہے اس لئے امیر صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنی امارت کے کارنامہ میں اس اصلاح عظیم کا تذکرہ چھوڑ جائیں اور یہ وحشیانہ عادات جو اسلام کی بدنام کنندہ ہیں جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہو قوم افغان سے چھڑا دیں ورنہ اب دور مسیح موعود آ گیا ہے۔اب بہر حال خدا تعالیٰ آسمان سے ایسے اسباب پیدا کر دے گا کہ جیسا کہ زمین ظلم اور ناحق کی خون ریزی سے پر تھی اب عدل اور امن اور صلح کاری سے پُر ہو جائے گی۔اور مبارک وہ امیر اور بادشاہ ہیں جو اس سے کچھ حصہ لیں۔“ محسن گورنمنٹ کی خدمت میں گزارش ان تمام تحریروں کے بعد ایک خاص طور پر اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں اور گو یہ جانتا ہوں کہ ہماری یہ گورنمنٹ ایک عاقل اور زیرک گورنمنٹ ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ اگر کوئی نیک تجویز جس میں گورنمنٹ اور عامہ خلائق کی بھلائی ہو خیال میں گذرے تو اُسے پیش کریں۔اور وہ یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ واقعی اور یقینی امر ہے کہ یہ وحشیانہ عادت جو سرحدی افغانوں میں پائی جاتی ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی کسی بے گناہ کا خون کیا جاتا ہے اس کے اسباب جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں دو ہیں (1) اول وہ مولوی جن کے عقائد میں یہ بات داخل ہے کہ غیر مذہب کے لوگوں اور خاص کر عیسائیوں کو قتل کرنا موجب ثواب عظیم ہے اور اس سے بہشت کی وہ عظیم الشان نعمتیں ملیں گی کہ وہ نہ نماز سے مل سکتی ہیں نہ حج سے نہ زکوٰۃ سے اور نہ کسی اور نیکی کے کام سے۔مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ در پردہ عوام الناس کے کان میں ایسے وعظ پہنچاتے رہتے ہیں۔آخر دن رات ایسے وعظوں کو سن کر ان لوگوں کے دلوں پر جو حیوانات میں اور