فقہ المسیح — Page 510
فقه المسيح 510 متفرق مت چھوڑ ا گر چہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور سیچ مت چھوڑو۔اگر چہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ۔مگر سچ ہی بولو۔تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہوگی۔کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ہاں بعض احادیث میں تو ریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور اسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے۔کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے۔مگر تو ریہ جو در حقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہی اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں۔جو تو ریہ سے بھی پر ہیز کریں۔اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کیلئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو تکلم کا مقصود نہیں۔اور غور کرنے کے بعد معلوم ہو کہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے۔وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے۔اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو۔اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف میل کیا ہو۔جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کیلئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کیلئے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے تو ریہ کا جواز پایا جاتا ہے۔مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلیٰ