فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 611

فقہ المسیح — Page 509

فقه المسيح 509 متفرق سجدہ نہیں کرنا چاہئے۔غیر ضروری تفتیش کرنا منع ہے ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 206، 207) ایک شخص نے عرض کی کہ میں ایک گاؤں میں دوکان پر گر شکر بیچتا ہوں۔بعض دفعہ لڑکے یا زمینداروں کے مزدور اور خادم چاکر کپاس یا گندم یا ایسی شے لاتے ہیں اور اس کے عوض میں سودا لے جاتے ہیں جیسا کہ دیہات میں عموماً دستور ہوتا ہے لیکن بعض لڑکے یا چا کر مالک سے چوری ایسی شے لاتے ہیں۔کیا اس صورت میں ان کو سو دادینا جائز ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا: جب کسی شے کے متعلق یقین ہو کہ یہ مال مسروقہ ہے تو پھر اس کا لینا جائز نہیں لیکن خواہ مخواہ اپنے آپ کو بدظنی میں ڈالنا امر فاسد ہے۔ایسی باتوں میں تفتیش کرنا اور خواہ مخواہ لوگوں کو چور ثابت کرنے کی کوشش کرنا دوکاندار کا کام نہیں۔اگر دوکاندار ایسی تحقیقاتوں میں لگے گا تو پھر دوکانداری کس وقت کرے گا؟ ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ گائے ذبح کرو۔بہتر تھا کہ ایک گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے۔حکم کی تعمیل ہو جاتی۔انہوں نےخواہ خواہ اور باتیں پوچھنی شروع کیں کہ وہ کیسی گائے ہے اور کیسا رنگ ہے اور اس طرح کے سوال کر کے اپنے آپ کو اور دقت میں ڈال دیا۔بہت مسائل پوچھتے رہنا اور باریکیاں نکالتے رہنا اچھا نہیں ہوتا۔(بدر 8 راگست 1907 صفحہ 5) توریہ کا جواز اور اس کی حقیقت پادری فتح مسیح کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا: آپ لکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں۔بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ اِنْ قُتِلْتَ وَأُخْرِقْتَ یعنی سچ کو