فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 611

فقہ المسیح — Page 497

فقه المسيح 497 متفرق حرام مال اشاعت اسلام میں خرچ کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتوی دریافت کیا کہ میری ایک بہن کیچنی تھی۔اس نے اس حالت میں بہت سا رو پی کھا یا پھر وہ مرگی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے تو بہ اور اصلاح کی توفیق دی۔اب میں اس مال کا کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا: ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے اور پھر مثال دے کر بیان کیا کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگِ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس اس وقت کوئی چیز اپنے دفاع کے لئے نہ ہو، نہ سوئی، نہ پتھر وغیرہ صرف چند نجاست میں پڑے ہوئے پیسے اس کے قریب ہوں تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے مارے گا اور اس وجہ سے رک جاوے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہوئے ہیں۔ہر گز نہیں۔پس اسی طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگایا جاسکتا ہے۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں جب کی یہ بات ہے۔آج کل والے انگریزی پیسے زیادہ رائج نہ تھے بلکہ موٹے موٹے بھدے سے پیسے چلتے تھے جن کو منصوری پیسے کہتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں خدمتِ اسلام کے لئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اسی اصول پر دیا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فتولی وقتی ہے اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔وَمَنِ اعْتَدى فَـقَـدْ ظَلَمَ وَحَارَبَ اللَّهَ - (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 243 244)