فقہ المسیح — Page 498
فقه المسيح 498 متفرق حاکم پر رعب ڈالنے کا وظیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ 1303ھ ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ بوقت دس بجے حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا خوف ہو اور دل پر اس کے رعب پڑنے کا اندیشہ ہو تو آدمی صبح کی نماز کے بعد تین دفعہ یسین پڑھے اور اپنی پیشانی پر خشک انگلی سے يَا عَزِیزُ لکھ کر اس کے سامنے چلا جاوے انشاء اللہ اس کا رعب نہیں پڑے گا بلکہ خود اس پر رعب پڑ جائے گا اور ویسے بھی حضرت صاحب نے مجھے ہر روز کے واسطے بعد نماز فجر تین دفعہ یسین پڑھنے کا وظیفہ بتایا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمان میاں عبداللہ صاحب نے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کیا ہوا تھا اس لئے تاریخ وغیرہ پوری پوری محفوظ رہی اور خاکسارا اپنی رائے سے عرض کرتا ہے کہ یا عَزِیزُ کے الفاظ میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان اپنے قلب پر خدا کی طاقت و جبروت اور قہر و غلبہ کی صفات کا نقشہ جمائے گا اور ان کا تصور کرے گا تو لازمی طور پر اس کا قلب غیر اللہ کے رعب سے آزاد ہو جائے گا اور بوجہ اس کے کہ وہ مومن ہے اس کو ان صفات کے مطالعہ سے ایک طاقت ملے گی جو دوسرے کو مرعوب کر دے گی اور انگلی۔لکھنا علم النفس کے مسئلہ کے ماتحت تصور کو مضبوط کرنے کے واسطے ہے ورنہ وظائف کوئی منتر جنت نہیں ہوتے۔واللہ اعلم۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 127 ، 128 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب متوطن فیض اللہ چک نے مجھ سے تحریری طور پر بیان کیا کہ میں نے حافظ حامد علی صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر کسی مقدمہ میں یا اور کسی طرح کسی حاکم کے سامنے جانا ہو تو جانے سے پہلے سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ لینی چاہئے اور سات مرتبہ اپنی