فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 611

فقہ المسیح — Page 492

فقه المسيح 492 متفرق سے حج بدل کروا <mark>دی</mark>ا۔اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالبا بیٹھے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور <mark>دی</mark>گر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔اور <mark>زکوۃ</mark> اس لئے نہیں <mark>دی</mark> کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے۔البتہ حضرت والدہ صاحبہ زیور پر <mark>زکوۃ</mark> <mark>دی</mark>تی رہی ہیں اور تسبیح اور رسمی وظائف وغیرہ کے آپ قائل ہی نہیں تھے۔(سیرت المہ<mark>دی</mark> جلد 1 صفحہ 623، 624) حضرت <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> کا اپنی اولاد کے لئے صدقہ نا جائز قرار <mark>دی</mark>نا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> علیہ السلام اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے صدقہ ناجائز خیال فرماتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سلامتی کی دعا (سیرت المہ<mark>دی</mark> جلد 1 صفحہ 619) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خوابہ عبدالرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میرے والد صاحب نے ایک مرتبہ ذکر کیا کہ جب میں شروع شروع میں احم<mark>دی</mark> ہوا تو قصبہ شوپیاں علاقہ کشمیر کے بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> علیہ الصلوۃ والسلام سے ” صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَّمَكَ اللهُ يَا رَسُولَ اللهِ " کے پڑھنے کے متعلق استفسار کروں۔یعنی آیا یہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔سوئیں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں اس بارہ میں خط لکھا۔حضور نے جواب تحریر فرمایا کہ یہ پڑھنا جائز ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس استفسار کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں تو کیا اس صورت میں بھی آپ کو ایک زندہ شخص کی طرح مخاطب کر کے دُعا <mark>دی</mark>نا جائز ہے سواگر یہ روایت درست ہے تو حضرت <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسا