فقہ المسیح — Page liv
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب 17 - احمدى علماء اجتهاد کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت ابو حنیفہ کے ساتھ ایک طبعی وفطرتی مناسبت تھی اور فقہ حنفی کے مسائل کو آپ نے اہمیت بھی دی ہے لیکن اس کے باوجود آپ نے فرمایا کہ چونکہ زمانہ میں تغیرات ہو چکے ہیں اس لئے بہت سی جگہوں پر فقہ حنفی کے مسائل سے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں احمدی علما ء اپنے خدا دا دا اجتہاد سے کام لیں۔فرمایا : ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اُس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنّت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار ہیں کہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اُس حدیث کو چھوڑ دیں۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 212) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ہدایت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل پر اجتہاد کے لئے جماعت احمد یہ میں علماء کی ایک مجلس " مجلس افتاء " قائم ہے جو فور اور تحقیق کے بعد اپنی رائے حضرت خلیفتہ امیج کی خدمت میں بھجواتی ہے۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح جو فیصلہ فرماتے ہیں وہ جماعت احمدیہ کی فقہ کا حصہ قرار پاتا ہے اور تمام احمدی اس پر عمل کرنے کے پابند ہو تے ہیں۔32 32