فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page liii of 611

فقہ المسیح — Page liii

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب 16۔نئے اجتھاد کی ضرورت هے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ایک ایسے وقت پر ہوئی جب دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ تغیرات برپا ہو رہے تھے۔رہن سہن اور تمدن کی صورتیں بدل رہی تھیں۔حکومتوں کے انداز اور لوگوں کے باہمی تعلقات میں تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔قومیت کی جگہ بین الاقوامیت کا تصور ابھر رہا تھا۔ملکوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلیاں ہو رہی تھیں اور غیر اقوام کے محکوم عوام میں آزادی کے خیالات پیدا ہورہے تھے۔خرید وفروخت کے انداز میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو چکی تھیں جو گزشتہ حالات سے بالکل مختلف تھیں۔اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کی جگہ کرنسی نوٹوں نے لے لی اور لباس اور خوراک میں بھی ایسی تبدیلیاں ہوئیں جن سے نئے سوالات نے جنم لیا۔سو د جسے اسلام نے قطعی حرام قرار دیا ہے کئی ملکوں میں قانونی شکل اختیار کر گیا اور مختلف ممالک میں بینکنگ کا تصور عملی شکل میں سامنے آیا جہاں سارا لین دین ہی سود کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ایسے بدلے ہوئے حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کی راہنمائی فرمائی اور انہیں آئندہ کے لئے لائحہ عمل دیا۔بعض ایسے مسائل تھے جن میں واضح طور پر سود لیا اور دیا جا تا تھا اور بعض ایسے مسائل تھے جن میں سود کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اگر یقین نہ بھی ہو تو شک ضرور پایا جاتا تھا۔ایک ایسے موقعہ پر جب آپ سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس ملک میں اکثر مسائل زیروز بر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک 66 حصہ سود کا موجود ہے اسی لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔“ ( البدریکیم و 8 نومبر 1904 ء صفحہ 8) 31